ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کولار کے قریب کرناٹکا حکومت ایک نیا شہر بسانے کوشاں

کولار کے قریب کرناٹکا حکومت ایک نیا شہر بسانے کوشاں

Tue, 07 Mar 2017 23:23:31    S.O. News Service

بنگلورو۔7 مارچ (ایس او نیوز) شہر بنگلورو میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے مقصد سے آندھرا پردیش میں وہاں کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کی طرف سے قائم کی جارہی راجدھانی امراوتی کے طرز پر ریاستی حکومت کے جی یف کے قریب ایک نیا شہر آباد کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ یہ بات آج ریاستی وزیر برائے شہری ترقیات و حج جناب روشن بیگ نے کہی۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے جی یف میں برسوں پہلے بند ہوچکی کولار گولڈ فیلڈس کیلئے زمین ریاستی حکومت کی طرف سے مہیا کرائی گئی تھی۔ اب یہ کارخانہ بند ہوچکا ہے اس لئے ریاستی حکومت اس جگہ کو واپس لے کر وہاں پر ایک نیا شہر آباد کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں یہاں شہر بسانے کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے بین الاقوامی ایجنسیوں سے رپورٹ مانگی گئی ہے اور ٹنڈر بھی طلب کیا گیا ہے۔ ان کی رپورٹ کی بنیاد پر تمام پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد اس شہر کے قیام کیلئے منظوری دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلورو میں فی الوقت مقیم 20 لاکھ سے زائد لوگوں کو اس مجوزہ نئے شہر میں آباد کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے جی یف میں پہلے ہی دو گولف کورس، دو ہیلی پیڈ، 140 روایتی بنگلے، سمیت کئی سہولتیں قائم ہیں۔ ساتھ ہی بنگلورو سے بنگارپیٹ کیلئے بہترین ریل نیٹ ورک بھی قائم ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر یہ شہر آباد ہوتا ہے تو اوربھی بہت ساری سہولتیں مہیا کروائی جائیں گی۔

کلسٹر شہر : جناب روشن بیگ نے بتایا کہ شہر بنگلورو کی بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھتے ہوئے نہ صرف کے جی یف میں بلکہ آنے والے دنوں میں شہر کے مضافات میں آنے والے دابس پیٹ، نلمنگلا، دیون ہلی، ڈوڈبالا پور وغیرہ میں بھی کلسٹر شہر آباد کئے جائیں گے۔ اس کیلئے تفصیلی پراجکٹ بھی تیار ہے۔ پہلے مرحلے میں اس کیلئے دیون ہلی کا انتخاب کیاگیا ہے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے ساتھ اس سلسلے میں بات چیت بھی جارہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دیون ہلی کے قریب کلسٹر شہر آباد کرنے کیلئے 2800 کروڑ روپئے کی رقم درکار ہے۔ اس سلسلہ میں تمام منظوریاں حاصل کرنے کے بعد کلسٹر شہروں کی آبادی کا سلسلہ شروع کیا جائیگا۔

سمندری پانی کا استعمال: جناب روشن بیگ نے سمندر کے کھارے پانی کی صفائی کے بعد اسے پینے یا دیگر ثانوی ضرورتوں کیلئے استعمال کے قابل بنانے میں کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تملناڈو کے مدورائے میں سمندر کا پانی صاف کرکے روزمرہ کی ضرورتوں کیلئے استعمال میں لایا جارہا ہے۔ اسی طرز پر منگلور اور اڈپی کے لوگوں کو سمندر کا پانی صاف کرکے مہیا کروانے کیلئے ایک پائلٹ پراجکٹ پر کام چل رہا ہے، اگر یہ پراجکٹ کامیاب رہا تو ریاست بھر میں اسے لاگو کرنے پر ان کا محکمہ سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔

میسور کا سائیکل شیرنگ نظام :وزیر شہری ترقیات نے میسور میں فروغ سیاحت کیلئے یہاں کی سٹی کارپوریشن کی جانب سے شروع کی گئی سائیکل شیرنگ سہولت کو قابل تقلید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلہ میں اس تجربہ کی کامیابی کے بعد محکمہ شہری ترقیات نے میسور میں اس نظام کو کل وقتی طور پر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا 15 مارچ کو بجٹ پیش کرنے کے بعد اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میسور میں مسافر ریلوے اسٹیشن، بس اسٹانڈ یا دیگر مقامات تک پہنچنے کیلئے ان سائیکلوں کا استعمال کرسکتے ہیں۔ میسور میں 38 مقامات پر یہ سائیکلس دستیاب رہی گی۔ اس پراجکٹ کو عالمی بینک کے مالی تعاؤن سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ سائیکل شیرنگ کی یہ سہولت شہر میسور میں پہلی بار متعارف ہورہی ہے۔ ملک میں ایسی سہولت کہیں اور نہیں ہے۔


Share: